ہفتہ 13 جون 2026 - 05:43
عید غدیر، ولایتِ امیر المؤمنین (ع) اور مجالسِ عزا میں ذمہ داری کا شعور وقت کی اہم ضرورت ہے

حوزہ / علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا: اہل بیت علیہم السلام کی مظلومیت اور تاریخ کے ثابت شدہ حقائق کو بیان کرنا تبلیغِ دین کا اہم تقاضا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں 12 جون 2026ء کی نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا: عید غدیر، عید مباہلہ اور نزولِ سورۂ ہل اتیٰ کی بابرکت مناسبتیں اہلِ ایمان کے لیے خوشی و مسرت کا باعث ہیں۔

انہوں نے ان ایام کو "عشرۂ ولایت" قرار دیتے ہوئے کہا: ان مواقع پر ولایتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

خطیبِ جمعہ نے اپنے پہلے خطبے میں عقائدِ اسلامیہ کی بنیادی حقیقتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحدانیت، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختمِ نبوت اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی ولایت اور خلافتِ بلا فصل شیعہ عقیدے کے بنیادی ارکان ہیں۔

انہوں نے آیۂ ولایت سمیت متعدد قرآنی دلائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت قرآن و سنت سے ثابت ہے اور اس سلسلے میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں۔

علامہ شبیر میثمی نے واقعۂ مباہلہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مباہلہ کے موقع پر جن مقدس ہستیوں کو اپنے ساتھ لے کر میدان میں قدم رکھا، وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، حضرت علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام تھے۔ یہ واقعہ اہل بیت علیہم السلام کے بے مثال مقام و منزلت کی واضح دلیل ہے۔

انہوں نے کہا: امام حسن اور امام حسین علیہما السلام نے بچپن ہی سے رسالت اور ولایت کے دفاع میں عظیم کردار ادا کیا اور امت کو یہ پیغام دیا کہ دینِ اسلام کی بقا اہل بیت علیہم السلام کی معرفت اور ان سے وابستگی کے بغیر ممکن نہیں۔

خطیب جمعہ نے کہا: تاریخ کے حقائق بیان کرنا توہین نہیں بلکہ علمی و دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے علماء اور ذاکرین سے اپیل کی کہ وہ منبروں سے حقائق کو مدلل انداز میں بیان کریں لیکن ایسا اسلوب اختیار نہ کریں جس سے اشتعال یا نفرت پیدا ہو۔

انہوں نے کہا: اہل بیت علیہم السلام کی مظلومیت اور تاریخ کے ثابت شدہ حقائق کو بیان کرنا تبلیغِ دین کا اہم تقاضا ہے۔

علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی نے واقعۂ غدیر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم میں اللہ کے خصوصی حکم کے تحت ولایتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا اعلان فرمایا۔ اگر غدیر کا پیغام اتنا اہم نہ ہوتا تو قرآن کریم اس کے ابلاغ کو رسالت کی تکمیل سے مشروط قرار نہ دیتا۔

انہوں نے اپنے خطاب کے دوران والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی نئی نسل کو ولایت، امامت اور اہل بیت علیہم السلام کی معرفت سے آراستہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے عقائد کو قرآنی اور حدیثی دلائل کے ذریعے مضبوط بنانا آج کی اہم ترین ذمہ داری ہے کیونکہ دشمن نوجوان نسل میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

علامہ شبیر میثمی نے دوسرے خطبے میں محرم الحرام اور ایامِ عزا کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: منابرِ حسینی پر صرف ذمہ دار، باصلاحیت اور دینی بصیرت رکھنے والے افراد کو جگہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے بانیانِ مجالس سے مطالبہ کیا کہ وہ خطباء اور ذاکرین کے انتخاب میں احتیاط برتیں تاکہ مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کے خلاف کوئی منفی تاثر پیدا نہ ہو۔

انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مجالس اور جلوسوں کے منتظمین کو سکیورٹی کے معاملات میں مکمل ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور پولیس، رینجرز اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

خطیبِ جمعہ نے عالمِ اسلام کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے جمہوریہ اسلامی ایران کے مؤقف کی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور کہا: خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود ایرانی قوم استقامت اور عزت کے ساتھ اپنے موقف پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا: مظلوم اقوام خصوصاً فلسطین، لبنان، یمن اور دیگر علاقوں کے عوام مسلسل ظلم و جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں اور امت مسلمہ کو ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔

علامہ شبیر میثمی نے پاکستان کی داخلی صورتحال، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، زرعی بحران اور عوامی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور عوام کی مشکلات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

خطیب جمعہ نے عزاداروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: محرم الحرام کے دوران منبر، سوز و سلام، انتظامات اور صفائی ستھرائی کے امور پر خصوصی توجہ دی جائے۔ عزاداری صرف چند افراد کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر محبِ اہل بیت علیہ السلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مجالس اور جلوسوں کے انتظامات میں اپنا کردار ادا کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha